عمومی سوالات کے جوابات

ہمار اادارہ ایک فلاحی، رفاہی اور غیر تجارتی بنیادوں پر چلنے والا منفرد خصوصیات کا حامل ادارہ ہے۔ ہمارا ادارہ حضرت مولاناعلی آفاق صاحب دامت برکاتہم کی زیرِ نگرانی روحانی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ جو انتہائی توجہ اور جانفشانی سے سائلیں، مریضوں اور دکھی انسانیت کے مسائل کو ترجیحی، بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سائلین کے پیش آمدہ مسائل کو راز داری اور پیشہ وارانہ انداز سے حل کرنے کے لئے ادارے نے مریض / سائل کو تفصیل کے ساتھ مسئلہ بذریعہ بتانے کی سہولت مہیا کی ہے۔ اس کے لئے مہیا کیا گیا فارم پُر کریں۔ :مریضوں کی طرف سے چند سوالات اور ان کے لئے ہدایات جو مریض عموماً پوچھتے ہیں ہمار اادارہ ایک فلاحی، رفاہی اور غیر تجارتی بنیادوں پر چلنے والا منفرد خصوصیات کا حامل ادارہ ہے۔ ہمارا ادارہ حضرت مولاناعلی آفاق صاحب دامت برکاتہم کی زیرِ نگرانی روحانی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ جو انتہائی توجہ اور جانفشانی سے سائلیں، مریضوں اور دکھی انسانیت کے مسائل کو ترجیحی، بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سائلین کے پیش آمدہ مسائل کو راز داری اور پیشہ وارانہ انداز سے حل کرنے کے لئے ادارے نے مریض / سائل کو تفصیل کے ساتھ مسئلہ بذریعہ بتانے کی سہولت مہیا کی ہے۔ اس کے لئے مہیا کیا گیا فارم پُر کریں۔ :مریضوں کی طرف سے چند سوالات اور ان کے لئے ہدایات جو مریض عموماً پوچھتے ہیں

اس علاج میں کتنے دن لگیں گے اور اس علاج کی کیا گارنٹی ہے؟’

مرض کی نوعیت کے مطابق علاج میں مختلف اور کم و بیش وقت لگتا ہے۔ ہمارا تعلق روحانی علامات یعنی جن، جادو سے ہے۔ اس کا علاج ہمارے ذمہ ہے اور پرانے جن، جادو کے مریضوں میں جسمانی بیماریاں مثلاً دل کا مسئلہ، شوگر، بلڈ پریشر، جوڑوں کا درد، آنکھوں کی کمزوری، دماغ کی کمزوری، نفسیاتی امراض کا شکار افراد اور دیگر بے شمار جسمانی امراض میں ہمارے معالجین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مریض کو جسمانی علاج کے لئے جسمانی معالجین یعنی حکماء اور ڈاکٹرز سے رجوع کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جن اور جادو کی ابتدائی سطح پر اگر مریض روحانی علاج کرواتا تو فالج، جوڑوں کا درد، کمر درد یا دل کا مسئلہ علاج کی تکمیل کے ساتھہی واپس چلا جاتا۔مگر روحانی علاج بر وقت نہ ہونے کی وجہ سے مسلط کردہ جن یا جادو اپنے ذمہ متعلقہ بیماری بنا کر جا چکا ہے۔ لہٰذا اس دوران جسمانی علاج نے جادو جنات کی وجہ سے فائدہ نہیں کیا۔ مگر اب روحانی علاج کے ساتھ یا روحانی علاج کے مکمل کرنے کے بعد جسمانی علاج بالکل صحیح رفتار سے فائدہ کرے گا۔

بعض لوگ قرض کی زیادتی کی شکایت کرتے ہیں اور بعض کاروبار کی بندش کے علاج کے مکمل ہونے پر رزق کی ترقی کے فوری طالب اور خواہاں ہوتے ہیں۔ اس بارے میں راہنمائی فرمائیں؟

‘ اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرض کی زیادتی اگر رزق کی بندش کے حوالے سے ہے تو پھر پہلے علاج ہو گا۔ پھر قرض کے اُترجانے کے لئے وظائف اور عمل کئے جائیں تو فائدہ ہو گا اور اگر بغیر علاج کے صرف وظائف اور قرض اُتر جانے کی خواہش کا اظہار کیا جائے تو شاید فائدہ نہ ہو۔ اسی طرح رزق کی ترقی کا معاملہ ہے کہ بندش کے خاتمے کے بعد دکان، کاروبار، دفتر اور ملازمت کو بالکل نیا سمجھنا چاہئیے۔ جس طرح اگر ہم آج ایک دکان شروع کر رہے ہیں تو اس کے گاہک بننے اور گاہکوں کے ایک دوسرے کو بتانے میں جتنا وقت لگے گا۔ اتنا ہی وقت ایک بندش کے علاج کے بعد والی دکان، دفتر، فیکٹری وغیرہ کو لگے گا۔ اس کے لئے دُنیاوی تدابیر جتنی ممکن ہوں، اختیار کرنی چاہئیں۔ ساتھ ساتھ وظائف، ترقی کے اعمال اور تعویذات کو بھی شامل رکھنا چاہئیے۔ سب سے بڑھ کر یہ بات ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ رازق اور مالک ہے۔ اس سے دُعا کرنا کبھی ترک نہیں کرنی چاہئیے۔ورنہ ہم تعویذات، عملیات اور وظائف کو اصل سمجھ کر ان کے پیچھے بھاگیں گے اور اللہ کو بھول جائیں گے تو بطور مسلمان کسی بھی حال میں مناسب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے(آمین)۔

بعض لوگ روحانی علاج میں گارنٹی مانگتے ہیں کہ آپ علاج کریں گے اور ہم پیسے دیں گے۔ مگر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہمارا کام ہو جائے گا؟

ایسی باتیں او ر سوالات وہ لوگ کرتے ہیں جو عموماً مختلف لوگوں سے علاج معالجہ کر چکے ہوتے ہیں یا دیگر مسائل کے سلسلے میں مختلف جگہوں سے رجوع کر چکے ہوتے ہیں۔ہمارا ادارہ حضرت مولاناعلی آفاق صاحب دامت برکاتہم کی زیرِ نگرانی غیر تجارتی بنیادوں پر خدمتِ خلق سر انجام دے رہاہے۔ وکیل مقدمہ لڑتا ہے، جیت کی تسلی اور اُمید تو دلاتا ہے، گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اس طرح ڈاکٹر آپریشن کی صورت میں موت کے کاغذ پر دستخط کرواتا ہے۔ شفاء کی گارنٹی نہیں دے سکتا اور مریض کے لواحقین بہت خوشی سے آپریشن اور علاج کرواتے ہیں اور دستخط بھی کرتے ہیں۔ ہمارا ادارہ ایسے لوگوں سے بالکل واضح الفاظ میں بات کرتا ہے کہ آپ لوگ استخارہ کریں اور دُعامیں اللہ تعالیٰ کے حضور درخواست کریں کہ یا اللہ! میں فلاں جگہ سے علاج روپے پیسوں کے عوض کرانا چاہتا ہوں۔ اگر میرا وہاں جانا مناسب ہے تو مجھے وہاں بھیج دے اور میرے دل میں اطمینان پیدا کر دے۔ اگر نہیں تو پھر میرے دل کو وہاں سے پھیر دے۔اب اگر کچھ دکھائی دے تو اس کے مطابق عمل کرے۔ ورنہ ہرگز رابطہ نہ کرے۔ استخارہ مسنون طریقے سے کریں۔ دو رکعت صلوۃ الاستخارہ عشاء کی نماز کے بعد پڑھ کر دُعا مانگیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا مسئلہ رکھیں اور پھر دُعا کے بعد کسی سے بات کئے بغیر سو جائیں۔ ایک، دو زیادہ سے زیادہ سات دن میں اللہ تعالیٰ خواب میں راہنمائی فرما دیں گے۔ اگر سات دن میں بھی کوئی وضاحت نہ ہو تو پھر دل کے میلان اور اطمینان کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور گارنٹی کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ ہمارے ادارے کے معالجین نے حضرت مولانا علی آفاق صاحب دامت برکاتہم کی زیرِ نگرانی آج تک جس شخص کا بھی علاج کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری لاج اور عزت رکھی ہے اور اس کو شفاء ملی ہے۔ دعویٰ اور وعدہ انسان کو زیب نہیں دیتا۔ جتنی محنت بورڈ کے ممبران کرتے ہیں۔ اس پر حلفاً کہا جا سکتا ہے کہ ہم انسانی کوشش اور محنت کے اعتبار سے سرخرو ہیں۔ نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ صرف اور صرف دُعا سے بدل سکتے ہیں اور دُعا جتنی خشوع اور زاری سے صاحب معاملہ(مریض یا سائل) مانگتا ہے، اتنا کوئی دوسرا مانگ ہی نہیں سکتا۔مختصر یہ کہ انسان کا کام کامل تدبیر ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اب تقدیر کو بدلنے میں دُعا کا سب سے اہم کردار ہے۔اس کو ہرگز نہیں بھولنا چاہئیے۔

میں نے فلاں بزرگ، عالم سے اجازت لے کر اتنے لاکھ دفعہ فلاں وظیفہ پڑھا ہے، مگر میرے حالات بدستور خراب ہو رہے ہیں۔ کیا میں آپ کے علاج سے ٹھیک ہو جاؤں گا؟

آپ کاسوال بہت موزوں اور مناسب ہے کہ جب آپ اسمائے الٰہی یا قرآن پاک کی مخصوص سورتوں کی کثرت سے تلاوت کرنے کے باوجود ٹھیک نہیں ہوئے تو واقعی انسان ذہن مایوسی کی طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن آپ نے کسی عالم، بزرگ کی تجویز سے پہلے یہ سوچنا یا پوچھنا گوارا نہیں کیا کہ حضرت آپ نے اتنا لمبا چوڑا مہینوں اور روزانہ کے اعتبار سے گھنٹوں پر محیط وظیفہ میری مشکل، پریشانی یا جن جادو سے نجات کے لئے تجویز کر دیا ہے۔ کیا ااپ اس فنِ عملیات سے واقف ہیں یا صرف اپنے خیا، سمجھ، بوجھ یا کسی کتاب میں پڑھ کر یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے۔ جبکہ جن جادو ایک سخت چیز ہے۔ اس میں اپنی ذاتی سمجھ بوجھ کے بل بوتے پر نہیں بلکہ مضبوط اعمال، چلہ کشی اور استاد کی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ جب آپ اور ہم نا واقفوں اور اپنے خیال میں سب سے کامل مگر فن سے نا واقف اور نا بلا ور جاہل کی بتائی ہوئی تدبیر اختیار کریں گے تو ایسا تو ہو گا کیونکہ”جس کا کام اسی کو ساجھے”۔ لہٰذا دین علماء کا کام ہے۔ اس میں کسی دوسرے کو دخل دینے کی اجازت نہیں تو بھی فن ہے جو محنت کا تقاضا کرتا ہے۔اب جبکہ ہم آپ کا علاج کریں گے تو تشخیص کے ساتھ مناسب اور ضروری علاج، احتیاطی تدابیر کو ساتھ لے کر چلیں گے اور چند ہی دن میں آپ یہ بات کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ واقعی سالوں میں اتنا فائدہ نہیں ہوا جتنا مجھے چند دن میں ہوا ہے۔

:پہلی اہم بات

ایسے سوالات وہ لوگ کرتے ہیں جو علاج کرانے کے بعد دوبارہ جادو جنات میں مبتلاہو جاتے ہیں۔ ان کو گارنٹی مانگنے کی بجائے اس طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ علاج کے بعد دفاع کو مضبوط بنائیں۔ ورنہ ایسا کوئی علاج نہیں کہ جس کے بعد کوئی معالج یہ کہہ سکے کہ اب جتنی مرضی بد پرہیزی کرو، معدہ خراب نہیں ہو گا۔ اب بخار، نزلہ، زکام کبھی نہیں ہوگا۔ ہاں اگر پرہیز کرے تو واقعی دوبار مرض نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایسے لوگوں کے پیچھے دشمن، حاسدین اور کاروباری افراد مسلسل جادو کراتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ نقصان اُٹھاتے ہیں۔ مقروض ہوتے ہیں اور پریشانی کے خاتمے کے اسباب علاج دُعا وغیرہ کی بجائے معا لجین پر بد اعتمادی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کو دفاع اور حصار کے مضبوط اعمال حاصل کرنے اور ادارہ کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے۔

دوسری اہم بات

یہ ہے کہ بعض لوگ اس روحانی علاج کی اہمیت سے نا واقف ہوتے ہیں۔ ناتوان کے دل میں طریقہ علاج کی قدر ہوتی ہے اور ناہی وہ اس طریقہ علاج سے ہی واقف ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ باطنی طریقہ ہے یعنی ایک شخص مشکوک اور تذبذب کا شکار ہو کر علاج کرائے گا تو عموماً اس کو فائدہ نہیں ہو گا اور جو شخص اس یقین کے ساتھ علاج کرائے گا کہ علاج سنت ہے اور معالج جو کام شرعی حدود کے اندر رہ کر بتائے گا میں اس کو پورا کروں گا تاکہ اللہ تعالیٰ میری اس تدبیر کو قبول فرما کر شفاء عطا فرمادے۔ تو اس صورت میں وہ جنات جو اس کے علاج میں کام کر رہے ہوں گے وہ خوش ہو کر زیادہ محنت سے جلدی کام کو نمٹانے کی کوشش کریں گے۔

تیسری اہم بات

بعض لوگ اچھے بھلے کھاتے پیتے اور روزمرہ ضروریات میں ہزاروں اور بعض دفعہ لاکھوں خرچتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مگر روحانی معالجین کی ناقدری کی یہ کیفیت ہو گی کہ ان کے سامنے نقصانات، ادھار، قرض، ملازمین اور کاروباری دوستوں کی جانب سے دھوکہ دہی کے قصے سنانے شروع کر دیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ عموماً نہیں بلکہ یقینا روحانی شفاء اور فیض سے محروم رہتے ہیں اور جو لوگ تنگی، ترشی، پریشانی اور نقصانات کے باوجود قرض اٹھا کر علاج کروانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو بھی درست فرما دیتے ہیں اور قرضوں کی ادائیگی کے بندوبست کے ساتھ ساتھ بندشوں کے خاتمے کو بھی وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی روحانی علاج کروائیں، وہاں جھوٹ بول کر اپنی دُنیا اور آخرت کو برباد نہ کریں ورنہ اسی مصیبت اور وبال میں خدا جانے کب تک پھنسے رہیں گے۔

چوتھی اہم بات

بعض لوگ بے صبری، نا سمجھی کی وجہ سے ایسے سوالات کرتے ہیں جن کا اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ مثلاً کوئی کہتا ہے کہ “اتنے دن ہوگئے میری بندش ختم نہیں ہوئی۔ میں فلاں فلاں سے علاج کروا چکا ہوں۔ مگر کوئی میری مشکل کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ میں لاکھوں روپے اس سلسلے میں برباد کر چکا ہوں”۔ تو یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ آپ نے بڑے بڑے لوگوں سے علاج کروایا ہو گا۔ مگر ہمارے پاس آج ہی آئے ہیں اور ہم دعویٰ نہیں کرتے صرف علاج کرتے ہیں اور بغیر کسی مفاد اور لالچ کے یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور بے شک آپ نے لاکھوں برباد کئے ہوں گے۔ مگر ہمیں آپ نے ابھی تک کچھ نہیں دیا۔ لہٰذا اگر دل مانے اور استخارہ میں مثبت اشارہ آئے تو علاج کروائیں اور طریقہ بھی خود ہی تجویز کریں۔ تاکہ آپ خود ہی فیصلہ کن موڑ پرچھٹی اہم بات پہنچ کر فیصلہ کریں اور کسی دوسرے کو مورد الزام نہ ٹھہرا سکیں۔ تینوں طریقہ علاج اس صفحہ پر موجود ہیں پانچویں اہم بات

سب باتوں کے ساتھ ساتھ ادب و آداب گفتگو اور بات چیت میں ملحوظ خاطر رکھیں ورنہ اگر بد تمیزی شعوری یا غیر شعوری طور پر سر زد ہو گئی تو پھر جنات جو آپ کے کام میں مصروف ہیں وہ کام چھوڑ دیں گے اور بنا بنایا کام بگڑ جائے گا۔ لہٰذا آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے۔اپنی ساری مشکلات اور پریشانیوں کو تمیز ور آداب کے ساتھ بتائیں۔ بدتمیزی ہرگز نہ کریں۔

چھٹی اہم بات

بعض لوگ یہ کہتے ہیں “آپ کام شروع کریں میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا، آپ کا پورا حق ادا کروں گا، آپ کو خوش کردوں گا، میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں اور میں بڑے کام کا آدمی ہوں۔ میرا اعتبار کریں میں دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہوں۔میں جس کے ساتھ چلتا ہوں پھر ہمیشہ چلتا ہوں”۔ ایسے لوگ اپنی جگہ بہت عظیم ہوتے ہیں مگر ہمار ادارہ ایک غیر تجارتی ادارہ ہے۔ یہ نفع کی بنیاد پر نہیں خدمت خلق کے جذبے کے تحت روحانی، جسمانی اور نفسیاتی علاج کے ساتھ رفاہ عامہ کے شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ لہٰذا اپہلے ہی یہ ادارہ لوگوں کے دئیے ہوئے عطیات پر قائم ہے۔ اس کو مزید اخراجات کے لئے مجبور کرنا اور بے جا اصرار کرنا نا مناسب ہے اور اس طرح کرنے سے بہت سارے مستحقین کے حق کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔ جس کو کوئی بھی عقلمند آدمی ستائش کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور ہم جو روحانی علاج کرتے ہیں یہ نفع اور مال کمانے کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف ان صدقات اور اخراجات وصول کرنے کی اجازت ہوتی ہے جو علاج میں ضروری ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سائل جو اپنی مرضی سے ہمارے فلاحی شعبہ جات میں خرچ کرنا چاہے اس کی مرضی اور اللہ کی رضا کی خاطر کار ثواب ہے۔

ساتویں اہم بات معالج کے ساتھ رابطہ

مریض/سائل کا معالج اور ادارہ کے ساتھ رابطہ علاج میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر مریض رابطہ نہ کرے اپنی کیفیت اور موجودہ صورتحال سے معالج کو آگاہ نہ کرے تو یقیناً فائدے کی کی امید کم ہے۔مریض کو مختلف نقصانات کے خاتمے اور علامات کی بروقت بیخ کنی بہت مشکل کام ہے۔ ادارہ کے معالجین کا بورڈ حضرت مولانا علی آفاق صاحب دامت برکاتہم کی زیرِ نگرانی عوام الناس کے بھرپور اعتماد کی وجہ سے مسائل کے حل میں ہمہ وقت مصروف اور کوشاں ہوتا ہے۔ اس لئے ان کے پاس مریض کی کیفیت کو روحانی اور غائبانہ طور پر دیکھنے کا وقت نہیں ملتا۔ جس کی وجہ سے واحد طریقہ اور ذریعہ مریض کا خود E-mailیا فون کر کے بتانا ہے۔ جو شخص/فرد جتنا اصولوں کی پاسداری اور پابندی کرے گا اتنا ہی روحانی فیض اور شفاء اس کا مقدر بنے گی۔

آٹھویں اہم بات جو کہاجائے اس پر عمل کریں

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو عمل، وظیفہ، کلام یا طریقہ علاج آپ نے تجویز کیا۔ یہ میں اتنے لوگوں سے کروا چکا ہوں۔ مگر بے سود یا عارضی افاقہ ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کے لئے انتہائی اہم بات یہ ہے کہ پچھلی باتوں کو ذکر کرنا بالکل مناسب نہیں۔ کیونکہ جسمانی طریقہ علاج میں دوائی ایک جیسی ہوتی ہے کہ پیرا سیٹا مول مختلف کمپنیاں بناتی ہیں اور سب کا مقصد درد کو ختم کرنا اوربخار سے افاقہ ہے۔ مگر روحانی طریقہ علاج میں فلسفہ بالکل مختلف ہے۔ کیونکہ یہ بات مت دیکھیں کہ پہلے بھی سورۃ فاتحہ، سورۃ مزمل، سورۃ یٰسین پڑھنے کو بتائی گئی تھی۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ روحانی طاقت اور اس کلام کے پیچھے جتنا مضبوط نیٹ ورک ادارے نے جوڑا ہے۔اصل وہ طاقت اور قوت ہے۔ آپ کا کام بطور مریض/سائل یا روحانی طالبعلم اس کلام کو یقین اور اعتماد کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔ اگر آپ کو افاقہ نہیں ہوتا تو پھر مہذب انداز میں اپنی شکایت کو بتانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ شکایت تو آپ کا حق ہے۔

نویں اہم بات (ایک وقت میں ایک معالج

فارسی کا مشہورمقولہ ہے”یک گیر محکم گیر” یعنی ایک کو پکٹرو اور مضبوطی سے پکٹرو” اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض /سائل کو ایک وقت میں ایک ادارے یا معالج سے علاج کروانا چاہئیے۔ اس لئے کہ اگر ایک ہی کام یا مسئلے کو مختلف لوگوں سے ایک ہی وقت کروانا چاہے گا۔ تو پھر یہ کام تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔اس سلسلے میں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک شخص سے آپ نے جادو کا علاج شروع کر دیا۔ ایک طرف سے جنات اور مؤکلات کام کے لئے پہنچ گئے۔ اسی دوران کسی دوسرے معالج سے رابطہ اور علاج کی صورت میں اس کے مؤکلات اور جنات کے جانے پر یا تو دونوں طرف کے جنات کی لڑائی ہوجائے گی اور مریض د شمن جادوگر کے ہاتھوں پٹے گا اور دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں طرف کے جنات لڑیں تو نہیں مگر یہ سوچتے ہوئے کہ جب یہ آ گئے تو ہمارا کیا کام دونوں اپنے معالج کے پاس واپس آ جائیں۔ دونوں صورتوں میں مریض کا نقصان اور جادو کروانے والے کا فائدہ ہے۔ لہٰذا اس سے گریز کرنا چاہئیے۔ ورنہ سخت نقصان کا اندیشہ ہے اور کسی دوسرے معالج کا بتایا ہوا وظیفہ یا اپنی سوچ سے کوئی وظیفہ بھی نہیں پڑھنا چاہئیے۔ اگر کوئی تعویذ کسی عامل کا دیا ہوا پہنا ہوا ہو تو وہ بھی اتار دینا چاہئیے۔

دسویں اہم بات دوسرے تمام وظائف ترک کر دیں

جب آپ نے کسی معالج کے علاج کو ترک کر دیا تو اس صورت میں ان کے تمام اذکار اور وظائف کو ترک کر دینا چاہیئے۔ کیونکہ اگر علاج ترک کر دیاا ور وظائف ترک نہ کئے تو کسی نہ کسی شکل میں عامل کے ساتھ اس کلام کے ذریعے رابطہ رہے گا او روہ چیز تھوڑی بہت Activeرہے گی اور اس عامل کے علاج کے ترک کرنے کے بعد یہ غیبی مخلوقات یعنی جنات وغیرہ مزید کسی بندش اور تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کے دئیے ہوئے نقش تعویذات اور کلام وغیرہ کو ترک دینا ہی مناسب ہے اور نقوش اور تعویذات کی بے ادبی کی بجائے نہر، دریا وغیرہ میں بہا دینا چاہئیے۔

گیارہویں اہم بات گستاخی سے بچیں

جس عامل کا علاج ترک کر دیں۔ ان کی گستاخی، غیبت اور بے ادبی سے بچنا چاہئیے۔ اس کے لئے احادیث مبارکہ اور قرآن پاک کی آیات میں نازل شدہ احکامات ہمارے لئے کافی دلیل ہیں۔ کیونکہ مسلمان تو قرآن و سنت اور اسلاف کے طریقے کا پابند ہے۔

انتہائی اہم بات

اس طرح بعض دفعہ لوگ ملازمت، بیرون ملک سفر، کاروبار کی ترقی، قرض کی ادائیگی، لڑکیوں کے رشتے کی بندش اور دیگر کاموں کے لئے وظائف پڑھتے ہیں۔ مگر درست اور مطلوبہ نتائج ظاہر نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ بعض دفعہ تو مایوسی اور نا شکری کی حد تک نوب پہنچ جاتی ہے۔ مگر اس سارے معاملے میں یعنی پریشانی، دقت، قرض، بیماری، ملازمت میں رکاوٹ، کاروباری بحران میں تشخیص جیسی بنیادی چیز سے غفلت برتتے ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ تو جادو جن کی حقیقت سے ہی نا واقفت ہوتے ہیں۔بعض اس پر یقین نہیں رکھتے اور بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ جادو، جنات، حسد، بغض، شریر لوگوں سے ہمار کیا واسطہ ؟ ہم نے کسی کا کیا نقصان کیا ہے؟ہم تو نماز، روزے، حج، زکوٰۃ اور دیگر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا کما حقہ اہتمام کرتے ہیں۔

پالیسی

اس طرح کے لوگ اور دیگر کوئی بھی فرد جو وظائف کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اس کو وظائف شروع کرنے کے ساتھ ساتھ تشخیص کو ہرگز نہیں بھولنا چاہئیے۔ کیونکہ جادو تو نبی اکرمﷺ پر چل سکتا ہے تو ہم پر کیوں نہیں! اس لئے اپنی عبادات، اذکار اور نیکی پر گھمنڈ کرنے کی بجائے عاجزی، انکساری کے ساتھ رحمت الٰہی کے طلبگار بنتے ہوئے روحانی تشخیص، علاج اور دیگر مناسب تدابیر کو اختیار کرنا چاہئیے۔ ورنہ بالآخر آنا علاج پر ہی ہوتا ہے۔ مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ادارہ علاج کے حوالے سے کسی قسم کی گارنٹی یا ضمانت نہیں دیتا۔ ہمارا کام علاج اور اللہ تعالیٰ کا کام شفاء دینا ہے۔ ہم نہ تو کوئی دعویٰ کرتے ہیں اور نہ ہی وعدہ۔صدقہ کی ادائیگی کی صورت میں کسی قسم کی واپسی، تبدیلی یا ٹرانسفر ممکن نہیں۔ہر کام سے پہلے استخارہ کرنامسنون عمل ہے۔لہٰذا اس کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔

روحانی علاج کے 3 طریقہ کار

:مفت

اس میں ساری محنت مریض خود کرتا ہے ۔ یہ علاج صرف وظائف پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں مریض روحانی مسائل مثلاًجن، جادو کا شکار نہ ہو تو فائدہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت وظائف وغیرہ کی حیثیت ایک دعا کی ہوتی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ قبول فرما لے یا رد فرما دے، وہ مالک ہے۔ اس میں عامل کی کوئی روحانی معاونت شامل نہیں ہوتی۔

:تعویذات وغیرہ کے ذریعے علاج

اس میں مریض تعویذات استعمال کرتا ہے اور وظائف بھی شامل ہوتے ہیں۔ مگر معالج کی روحانی سپورٹ شامل ہوتی ہے۔ یہ طریقہ پہلے طریقہ علاج سے زیادہ بہتر ہوتا ہے اور تدبیر کی ایک عمدہ شکل ہے۔اس طریقہ علاج میں معالج کے زیرِ نگرانی مریض کو کافی بہتری اپنی آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ نتائج صرف اللہ تعالیٰ ہی مرتب کرتا ہے۔ اس طریقہ علاج میں مناسب سے اخراجات ہوتے ہیں۔ ہمارہ ادارہ چونکہ ایک غیر تجارتی، فلاحی اور رفاہی کام کر رہا ہے، اس لئے مریض کی صحت سے متعلق جو اقدامات صدقہ جات وغیرہ جو عامل/معالج اور اس کے گھر والوں کی طرف سے اور بعض دفعہ مریض کی جانب سے کرنے ضروری ہوتے ہیں۔ ان کی وصولی کی اجازت دی جاتی ہے۔

:معالج کی مریض پر مسلط جنات، جادو اور شیاطین سے براہ راست جنگ یہ طریقہ علاج معالج اور اس کی فیملی اور دیگر

تعلقات کے لئے خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے کہ روحانی بورڈ باریک بینی کے ساتھ مشاہدہ اور مشاورت کے بعد ہی کسی ممبر کے سپرد اس کام کو کرتا ہے اور اس پر اُٹھنے والے اخراجات پچھلے ذکر کردہ دونوں اقسام علاج سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ جادووجنات پہلے تو صرف مریض، اس کے گھر یا خاندان کا دشمن ہوتا ہے مگر علاج کے بعد وہ معالج اور اس کی فیملی وغیرہ کے خلاف بھی اپنے عزیز رشتہ داروں اور قبائل کو لا کھڑا کرتا ہے۔ اس لئے اس طریقہ علاج میں صدقہ کی کثیر مقدار اور بوقت ضرورت دیگر اشیاءکی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طریقہ کی اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جادو، جنات وغیرہ پہلے معالج سے لڑتے ہیں اور مریض جنگ کے ماحول سے نکل کر مرہم پٹی وغیرہ پر ہوتا ہے اور اس علاج میں چونکہ جادو، جنات اور شیاطین کا مقابلہ براہ راست معالج سے ہوتا ہے۔ اس لئے بعض مواقع پر صلح صفائی کی صورت میں صدقہ اور بعض دفعہ جنگ کی صورت میں زبردست روحانی طاقت اور حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ جادو، جنات اور سفلی اعمال کے جنات وغیرہ معالج کے دفاعی حصار اور فوج کو ختم کر کے ہی مریض تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لئے دفاع پر مامور فوجِ جنات وغیرہ پر کثیر صدقات گوشت وغیرہ کی شکل میں خرچ کئے جاتے ہیں۔ جو لوگ مالی استعداد اور طاقت رکھتے ہوں ، ان کو استخارہ کے بعد اس علاج کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ نتائج اور شفاءاللّٰہ وحدہ لا شریک لہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسانی طاقت و بساط کے مطابق انسان تدبیر کا مکلف ہے